فلم پشپا کے انداز میں سرخ صندل کی لکڑی اسمگلنگ کی کوشش
بنگلورو کا نوجوان مہاراشٹراکے سانگلی میں گرفتار
ڈھائی کروڑ روپئے مالیتی سرخ صندل اور لاری ضبط
سانگلی/بنگلورو: 03۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ان دنوں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر تلگو زبان میں سوکمار کی ہدایت کاری میں بنائی گئی اداکار اللوارجن کی فلم”پشپا دی رائز” کے ڈائیلاگس اور ایک گیت پرمشتمل ویڈیوز کی سونامی آئی ہوئی ہے۔انسٹاگرام پر تو کروڑوں کی تعداد میں ان ڈائیلاگس اور گیت پر اللو ارجن Allu Arjun# کے ڈانس پرمشتمل ویڈیوز کو اپنے اپنے ڈھنگ سے پیش کیا جارہا ہے۔
” فلم پشپا کے ایک مشہور گانے کا اوریجنل کلپ یہاں دیکھا جاسکتا ہے "
سرخ صندل کی اسمگلنگ،اس کے طریقہ کار اور اس میں مصروف مافیا اور گینگ وار کے موضوع پر بنائی گئی فلم”پشپا،دی رائز” ہندی،کنڑا اور ملیالم سمیت دیگر زبانوں میں ڈب کرکے ڈسمبر میں ریلیز کی گئی جس نے اب تک 350 کروڑ سے زائد کا ریکارڈ بزنس کیا ہے۔
” فلم پشپا کے مشہور ڈائیلاگ پرمشتمل اوریجنل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "
https://www.instagram.com/reel/CZAcx-bhtTD/?utm_medium=copy_link
اللو ارجن نے فلم پشپا میں ایک نئے گیٹ اپ میں اپنی بہترین اداکاری کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔اس فلم میں ان کے ساتھ ملیالم فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار فہد فاصل اور اداکارہ رشمیکا مندنا کے علاوہ دیگر اداکاروں نے بھی بہترین اداکاری کی ہے۔
کئی مشہورشخصیتوں بشمول کرکٹ کھلاڑیوں نے فلم پشپا کے ڈائیلاگس اور ایک گانے کی نقل پرمشتمل ویڈیوز بڑی تعداد میں بنائے ہیں بالخصوص اس فلم کا ڈائیلاگ” پشپا بولے تو فلاور سمجھے کیا،فائر ہے میں فائر،میں جھکے گا نہیں سالا” پر کروڑوں ویڈیوز بنائے گئے ہیں۔
” مشہور کرکٹ کھلاڑی عرفان پٹھان کا انسٹاگرام پر پوسٹ کیا گیا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے ”
” آسٹریلیا کے مشہور کرکٹ کھلاڑی ڈیویڈ وارنر David Warner کا پشپا فلم کے ڈائیلا پر بنایا گیا انسٹاگرام ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے"
” کرکٹ کھلاڑی شکھردھون کا پشپا فلم کے ایک اور ڈائیلاگ ” پشپا، پشپاراج،میں جھکے نہیں سالا” کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے”
"افغانستان کے کرکٹ کھلاڑی راشد خان اور پاکستانی کرکٹر ہاریس رؤف کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیا گیا پشپا فلم کے تلگو گانے پر ڈانس کرتے ہوئے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔”
خیر یہ تو تھیں تفریح کی غرض سے اس فلم کے متعلق تفصیلات تاکہ اردو کے قاری بھی اس سے واقف ہوں۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر زمانے میں نوجوان فلموں سے زیادہ متاثر ہوتے رہے ہیں جو کہ فلمی پردہ پر ہی بہتر نظر آنے والے جرائم کے معاملہ میں فلمی انداز میں جرم کرنے کے چکر میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک بنگلورو کا نوجوان ڈرائیور اس فلم” پشپا دی رائز” میں”سرخ صندل کی لکڑی” کے اسمگلر اللو ارجن سے متاثر ہوکرحقیقی زندگی میں اپنے ٹرک میں سرخ صندل کی لکڑی اسمگل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے حراست میں لے لیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یاسین عنایت اللہ کرناٹک-آندھرا پردیش کی سرحد سے مہاراشٹر کے راستے سے اپنے ٹرک میں سرخ صندل کی لکڑی لے کر جا رہا تھا۔مہاراشٹرا پولیس نے گاندھی چوک،معراج نگر،سانگلی ضلع میں اسے سرحد پار کرنے کے بعد پکڑ لیا۔صندل کی لکڑی جس کی قیمت 2 کروڑ 45 لاکھ روپئے بتائی گئی ہے اور اس کا ٹرک جس کی قیمت 10 لاکھ روپئے ہے پولیس نے ضبط کرلیا ہے۔
اس واقعہ کے متعلق سانگلی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس دکشت گیڈم نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں خفیہ ذرائع سے مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ صندل کی لکڑی کی غیر قانونی طریقہ سے منتقل کی جارہی ہے۔اس اطلاع کی بنیاد پر ہم نے جنگلات کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا اور زکوٰۃ ناکہ پر چھاپہ مارا۔اس چھاپے کے دؤران ہم نے ایک گاڑی قبضے میں لی اور ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ہم نے زائد از ایک ٹن سرخ صندل کی لکڑی برآمد کی جس کی قیمت دو کروڑ 45 لاکھ روپئے ہے اور گاڑی کی قیمت 10 لاکھ روپئے ہے۔
سانگلی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس دکشت گیڈم نے بتایا کہ ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379،34 کے تحت کیس درج رجسٹر کیا گیا ہے اور فاریسٹ ایکٹ کی مختلف دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔
فلم پشپا کی کہانی سرخ صندل کی اسمگلنگ کے گرد گھومتی ہے۔اللو ارجن نے فلم پشپا میں ایک لاری ڈرائیور اور صندل کی لکڑی کے اسمگلر کا کردار ادا کیا ہے۔اداکار اللو ارجن کو فلم میں سرخ صندل کی اسمگلنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں ایک ٹینکر میں لکڑی کا ڈھیر لگا کر اس میں دودھ ڈالا جاتا ہے۔
فلم پشپا سے ترغیب پاتے ہوئے اس واقعہ کے ملزم یاسین عنایت اللہ نے اپنے ٹرک میں پہلے سرخ صندل کی لکڑی لادی،پھر اس پر پھلوں اور سبزیوں کے ڈبے ڈالے۔اور اپنی اس گاڑی پر” کوویڈ۔19 اہم مصنوعات” کا اسٹیکر لگا دیا تھا۔
ملزم بغیر کسی پریشانی اور تلاشی کے کرناٹک کی سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوگیا لیکن اسے مہاراشٹرا پولیس نے اپنی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پکڑ لیا۔عہدیدار اب اپنی تحقیقات کے دؤران اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ اس کے پیچھے جو نیٹ ورک ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جنوری میں آندھراپردیش کے چلکور منڈل میں نیلور-چنئی ہائی وے پر بدھنم ٹول پلازہ پر دھاوہ منظم کرتے ہوئے نیلور پولیس نے سرخ صندل کی اسمگلنگ میں ملوث ایک بین ریاستی گروہ کو گرفتار کیا تھا۔اس دھاوے میں55 لکڑی کاٹنے والوں اور تین اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔جبکہ تمل ناڈو کے مختلف مقامات پر دھاؤوں کے بعد زائد از 45 سرخ صندل کا ذخیرہ ضبط کیا گیا تھا لاگز جنہیں چین بھیجنا تھا۔اس تلاشی کے دؤران ایک گاڑی،31 سیل فون،24 کلہاڑیاں اور سرخ صندل کے درخت کاٹنے میں استعمال کیا جانے والا سامان بھی ضبط کیا گیا تھا۔
بہرحال فلموں میں دکھائے جانے والےمنفی مناظر کے ذریعہ جو کہ صرف فلم اور تفریح کی حد تک ہی درست ہوتے ہیں کو ذاتی زندگی میں اس سے ترغیب پانے والوں کا زیادہ تر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی جانا طئے ہوتا ہے!!۔

