تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 کارپوریشنس کے انتخابات کے لیے کل 11 فروری کو رائے دہی، تمام سرکاری اور خانگی اداروں کو با اُجرت تعطیل کا اعلان

تلنگانہ کی 116   بلدیات اور 7   کارپوریشنس کے انتخابات کے لیے کل 11 فروری کو رائے دہی
تمام سرکاری اور خانگی اداروں، دُکانات ، صنعتوں، کارخانوں کو بااجرت تعطیل کا اعلان

حیدرآباد/وقارآباد/تانڈور10۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست میں بلدی انتخابات کی رائے دہی کے لیے اُلٹی گنتی کا آغاز ہوگیا ہے اوررائے دہی کے آغاز کے لیے چند گھنٹے رہ گئے ہیں۔ کل 11فروری ،بروز چہارشنبہ  7بجے صبح سے شام 5بجے تک رائے دہی ہوگی اور 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی اور اسی دن نتائج کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔اس سلسلہ میں وقارآباد ضلع کی چار بلدیات وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل میں سرکاری سطح پر تمامتر انتظامات مکمل کردئیے گئے ہیں ۔

کل ریاست کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشنس میں رائے دہی ہوگی، اسی دوران حکومت تلنگانہ نے کل 11 فروری کوجہاں رائے  دہی مقرر ہے وہاں تمام سرکاری اور خانگی ملازمین ،صنعتوں، کارخانوں ،دُکانات اور صنعتوں کے لیے بااُجرت تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

ریاست کے سات میونسپل کارپوریشنس جن کے لیے کل رائے دہی ہوگی ان میں کریم نگر (66حلقے)، نظام آباد، محبوب نگر، راما گنڈم، کوتہ گوڑم، منچریال (تمام 60 بلدی حلقے) اورنلگنڈہ (48 بلدی حلقے) شامل ہیں جہاں جملہ 414 بلدی حلقوں میں کارپوریٹرس کے لیے اور دیگر اضلاس کی 116 بلدیات کے 2,582 ارکان بلدیہ (کونسلرس) کے لیے رائے دہی ہوگی۔گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ان انتخابات میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس کی معیاد 10 فروری کو ختم ہو رہی ہے۔

ریاست کے ان بلدی انتخابات میں جملہ 52 لاکھ 43 ہزار رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جن میں 25لاکھ 62 ہزار مرد رائے دہندے ، 26 لاکھ 80 ہزار خاتون رائے دہندوں کے علاوہ 640 تیسری صنف کے رائے دہندے شامل ہیں جو ریاست میں قائم کیے جانے والے  8,203مراکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں جن کے لیے 16,031 بیالٹ باکس کا نظم ہوگا۔

وقارآباد ضلع کے تانڈور میں بلدی انتخابات میں خدمات انجام دینے والے عملہ کے لیے سینٹ مارکس اسکول میں ڈی آر سی مرکز قائم کیا گیا ، جہاں انتخابی عہدیدار اور اسٹاف پہنچ گیا تھا ڈی آر او منگی لال ، کمشنر بلدیہ تانڈور مدھو سدھن ریڈی ،تحصیلدار تارا سنگھ اور دیگر عہدیداروں نے انتخابی عملہ کو درکار تما م انتخابی ساز و سامان حوالے کیا ۔

وقارآباد ضلع کلکٹر و الیکشن آفیسر پرتیک جین نے سینٹ مارکس اسکول کے اس ڈی آر سی مرکز کو دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا،عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کیں اور انتخابی عملہ سے بات کرتے ہوئے مختلف ہدایات دیں۔اس موقع پروقارآباد ضلع کلکٹر و الیکشن آفیسر پرتیک جین نے بتایا کہ تانڈور میں پرامن و صاف شفاف بلدی انتخابات کے لیے تمام اقدامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تانڈور کے 36بلدی حلقہ جات کے رائے دہندگان کے لیے تانڈور میں جملہ 117مراکز رائے دہی (پولنگ بوتھ) قائم کیے گئے ہیں۔

وقارآباد ضلع کلکٹر و الیکشن آفیسر پرتیک جین نے اس موقع پر انتخابی عملہ اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ مکمل ذمہ داری کیساتھ انتخابی خدمات انجام دی جائیں،بیالٹ پیپرس اور بیالٹ باکس کو مکمل محفوظ رکھنے کے لیے چوکس رہیں،ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کل رائے دہی کے موقع پر پولنگ بوتھس پررائے دہندوں کے لیے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جائے،مناسب پارکنگ کا نظم کیا جائے اور برقی کی بلاء وقفہ سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔

وہیں ڈی ایس پی تانڈور نرسنگھ یادیا نے بھی اس ڈی آ رسی سنٹر کا مشاہد ہ کیا۔بعدازاں ڈی ایس پی نے کہا کہ بلدی انتخابات کے دوران تانڈور میں سخت حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایس پی وقارآباد ضلع محترمہ سنیہا مہرہ کی ہدایت پر ہر پولنگ بوتھ پر سخت پولیس انتظامات کیے جائیں گے اور اس دوران تانڈور ٹاون میں اھتیاطی طورپردفعہ 144نافذ رہے گا۔

ڈی ایس پی تانڈور نرسنگھ یادیا نے بتایا کہ رائے دہی کے دن تانڈور میں دو ڈی ایس پیز،12سرکل انسپکٹران، سب انسپکٹران اور اسسٹنٹ سب انسپکٹران پولیس کے علاوہ 200ملازمین پولیس اس بندوبست میں شامل رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے لیے مکمل انتظامات کرلیے گئے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رائے دہی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع 100نمبر پر دی جائے۔اس موقع پر سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور(اربن) سنتوش کماربھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ بلدیہ تانڈور کے 36 بلدی حلقوں کے لیے جملہ 135امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں جن میں کانگریس کے 36، بی آرایس پارٹی کے 36، بی جے پی کے 28، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے 15 امیدواروں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے 6اور15؍آزاد امیدوار شامل ہیں۔

بلدیہ تانڈور کے ان 36بلدی حلقوں میں جملہ رائے دہندگان کی تعداد 77,029 ہے، جن میں 37,499 مرد رائے دہندگان ، خاتون رائے دہندگان کی تعداد 39,525اورتیسری صنف کے پانچ رائے دہندے شامل ہیں جو کل اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

بلدیہ تانڈور کے عہدئہ صدارت کو ان انتخابات میں بی سی جنرل کے لیے مختص کیا گیا ہے ،جبکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014ء اور 2020ء میں منعقدہ بلدی انتخابات کے مواقع یہ عہدہ خواتین کے لیے مختص تھا۔2014ء میں مجلس اتحادالمسلمین کی تائید سے اور 2020؍کے انتخابات میں تنہا بی آر ایس پارٹی نے صدر نشین بلدیہ تانڈورکے عہدہ پر پر قبضہ کیا تھا۔

بلدیہ تانڈور کے صدر نشین کے عہدہ کے حصول کے لیے کسی بھی جماعت کو 19 ارکان بلدیہ کے جادوئی ہندسہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کانگریس ، بی آر ایس اور مجلس کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اکثریت انہیں حاصل ہوگی ۔زیادہ سے زیادہ کانگریسی امیدواروں کی کامیابی کے لیے رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی ، بی آر ایس پارٹی کے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے سابق رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی ،مجلس کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے صدر مجلس ضلع وقارآباد وتانڈورعبدالہادی شہری ، بی جے پی امیدواروں کے لیے رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشورریڈی مقامی پارٹی قائدین کیساتھ ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔

ان بلدی انتخابات میں عوامی رحجان کا اندازہ لگانے میں سیاسی پنڈتوں کے  علاوہ صحافی بھی ناکام نظر آرہے ہیں !!کیونکہ تمام جماعتوں کی ریالیوں، جلسوں، روڈ  شوز اور بلدی حلقوں میں انتخابی مہم میں شرکا کی تعداد زیادہ دیکھی گئی تھی اب 13فروری کو ہی معلوم ہوگا کہ کس پارٹی نے اس عوامی ہجوم کو اپنے ووٹ بینک میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔؟