صدر مجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹراسدالدین اویسی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد
مرکزی حکومت کی جانب سے زیڈکیٹگری سیکورٹی کی فراہمی،حیدرآباد میں سخت سیکورٹی
نئی دہلی: 04۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی پر کل انتخابی مہم کے بعد اترپردیش سے دہلی واپسی کے دؤران اترپردیش میں ہونے والے دہشت گردانہ حملہ جس میں ان کی گاڑی پر چار راؤنڈ فائرنگ کی گئی تھی کے بعد آج مرکزی حکومت نے انہیں فوری اثر کے ساتھ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF)کے جوانوں پرمشتمل”زیڈکیٹگری سیکورٹی”(Z category security)” فراہم کی ہے۔
دستیاب ویڈیو کے مطابق زیڈ کیٹگری سیکورٹی کے کمانڈوز کی ٹیم نے آج ہی بیرسٹر اسدالدین اویسی کی دہلی کی رہائش گاہ واقع 34 اشوک روڈ پہنچ کر اپنی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
زیڈ کیٹگری سیکورٹی کی حامل شخصیتوں کو 4 تا 6 نیشنل سیکورٹی گارڈ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اس طرح دیگر پولیس عہدیداروں کے بشمول جملہ 22 رکنی عملہ زیڈ کیٹگری کی حامل شخصیتوں کے تحفظ پر مامور ہوتی ہیں۔
یاد رہے کہ کل 3 فروری کی شام بیرسٹراسدالدین اویسی کی گاڑی پر اترپردیش کے مرادآباد سے دہلی واپسی کے دؤران چھجرسی کے ٹول گیٹ پر فائرنگ کی گئی تھی اس سلسلہ میں اترپردیش پولیس نے دو نوجوانوں کو میرٹھ کے کیتھود علاقے سے گرفتار کرلیا ہے۔

گرفتار شدہ دو ملزموں میں سے ایک سچن پنڈت ہے جو نوئیڈا کا رہنے والا ہے جس کے خلاف پہلے بھی ایک اقدام قتل کا مقدمہ درج ہے۔اس کی کئی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں وہ بشمول چیف منسٹر اتر پردیش آدتیہ ناتھ دیگر بی جے پی قائدین کے ساتھ نظر آرہا ہے۔

اپنے فیس بک پروفائل میں سچن پنڈت نے لکھا ہے کہ وہ بی جے پی کا رکن ہے۔اس کی جانب سے شیئر کیے گئے بی جے پی کے رکنیت فارم پر اس کا نام "دیش بھگت سچن ہندو” لکھا ہوا ہے۔جو کہ قانون کا طالب علم بتایا گیا ہے!!۔

جبکہ گرفتار شدہ دوسرا ملزم سہارنپور کا ایک کسان شبھم ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔پولیس نے ان کے پاس سے دیسی پستول برآمد کیا ہے جو انہوں نے حال ہی میں خریدا تھا۔پولیس اب ان لوگوں کی تلاش کر رہی ہے جن سے انہوں نے آتشیں اسلحہ خریدا تھا۔امکان ہے کہ اترپردیش پولیس آج ان دونوں کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس تحویل میں لے کر مزید تفتیش کرے گی۔
صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ہوئے قاتلانہ حملہ کے بعد سے ملک بھر میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔اور اس دہشت گردانہ حملہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔کئی سیاسی قائدین نے بھی اس حملہ کی سخت مذمت کی ہے۔
جبکہ حیدرآباد میں ریاستی حکومت نے زائد سیکورٹی فورس طلب کرلی ہے۔بالخصوص حیدرآباد کے پرانے شہر میں،چارمینار، مکہ مسجد اور دیگر مقامات پر احتیاطی طور پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔اس کے لیے کوئیک ایکشن ٹیم اور ریاپڈ ایکشن فورس کے علاوہ پولیس کی مختلف ٹیمیں حرکت میں ہیں۔

