وزیراعظم کا دؤرہ حیدرآباد،وزیراعلیٰ دؤرہ سے دُور!
ٹوئٹر پر "ایکوالیٹی فار تلنگانہ” ہیش ٹیاگ ٹرینڈ
طویل بیانر کے ساتھ نوجوانوں کا خاموش مظاہرہ
حیدرآباد: 05۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)
وزیراعظم نریندر مودی نے آج حیدرآباد کا دؤرہ کیا۔لیکن ایرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے ایرپورٹ پہنچنے اور پھر پروگراموں میں شرکت کے بعد واپسی پر انہیں وداع کرنے اور وزیراعظم کے ساتھ دؤرہ میں شامل رہنے سے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے خود کو دور ہی رکھا!!۔جوکہ اب ریاست کے بشمول ملک،میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے۔
بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ ہلکے بخار سے متاثر ہیں اس لیے وہ وزیراعظم نریندر مودی کے دؤرہ حیدرآباد میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتے۔جبکہ 3 فروری کو باقاعدہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایک نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ریاستی وزیر افزائش مویشیان تلسانی سرینواس یادو پروٹوکال کے تحت وزیراعظم کا استقبال اور انہیں وداع کریں گے۔
"وزیراعظم نریندرمودی کے حیدرآباد اور استقبال کے مناظر”
سیاسی حلقوں میں ایسا مانا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے کسانوں سے دھان کی خریدی سے انکار اور اس کے خلاف ریاست بھر میں دو مرتبہ برسراقتدار ٹی آر ایس پارٹی کے احتجاج اور مختلف اسکیمات پرعمل آوری میں ریاست تلنگانہ کو محروم رکھے جانے کے بعد سے وزیراعلیٰ چندراشیکھرراؤ مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف باقاعدہ ایک مہم کا آغاز کرچکے ہیں۔
اس لیے انہوں نے آج وزیراعظم کے دؤرہ حیدرآباد سے خود کو دور رکھتے ہوئے ریاست کے عوام کو پیغام دیا ہے کہ وہ واقعی مرکزی حکومت اور بی جے پی سے دو دو ہاتھ کرنے میں مصروف ہیں! اور ساتھ ہی ریاستی بی جے پی قائدین کو بھی یہ بتانا مقصد ہوسکتا ہے کہ مرکزی قیادت سے ہی میری جنگ جاری ہے؟؟
ریاستی بی جے پی قائدین بھی وزیراعلیٰ کے سی آر کے اس اقدام پر شدید تنقید میں مصروف ہیں کہ انہوں نے بخار کا بہانہ بناتے ہوئے پروٹوکال کی خلاف ورزی کی ہے اور وزیراعظم کے عہدہ کا بھی خیال نہیں کیا!!
وزیراعظم نریندرمودی نے آج حیدر آباد کے اپنے دؤرہ کے دؤران سنگاریڈی ضلع کے پٹن چیرو میں موجود انٹرنیشنل کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی ایرڈ ٹراپکس(اکریساٹ) کیمپس کی 50 سالہ تقریبات کا آغاز کیا۔
وہیں حیدرآباد میں تعمیر شدہ”اسٹیچو آف ایکویلٹی”Statue Of Equality”(مجسمہءمساوات) کی نقاب کشائی کے ذریعہ اسے قوم کے نام معنون کیا۔اسٹیچو آف ایکویلٹی جس کی لمبائی 216 فٹ ہے جسے گیارہویں صدی کے بھکتی سنت شری رامانوجاچاریہ کی یاد میں یہ مجسمہ” پنچ لوہا” سے بنایا گیا ہے جو پانچ دھاتوں سونا،چاندی،پیتل،تانبہ اور زِنک کا مجموعہ ہے جو کہ بیٹھی ہوئی حالت میں دنیا میں دھات سے بنے ہوئے سب سے اونچے مجسموں میں سے ایک ہے۔اس مجسمہ کے تخلیق کار شری رامانوجاچاریہ آشرم کے شری چنّا جی یار سوامی ہیں۔
اسی دؤران آج وزیراعظم نریندر مودی کے دؤرہ حیدرآباد کے موقع پر ٹوئٹر پر " EqualityForTelnagana# ” (تلنگانہ کے لیے مساوات) کا ہیش ٹیاگ ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔جس کے ذریعہ ہزاروں ٹوئٹس کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کی گئیں ناانصافیوں کا ذکر کیا گیا۔چند ریاستی وزرا، ارکان پارلیمان، پارٹی قائدین اور ٹوئٹر صارفین نے ٹوئٹس کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ کی گئیں نا انصافیوں کا ذکر کیا۔
وہیں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حسین ساگر پر ایک طویل بیانر کے ساتھ خاموش احتجاج کیا جس پر Equality For Telangana کے نعروں کے ساتھ مختلف مسائل اور مرکزی حکومت کی جانب سے بشمول مرکزی بجٹ میں اور دیگر اسکیمات میں ریاست کو نظر انداز کیے گئے امور پر مشتمل نعرے تحریر تھے۔
دوسری جانب بی جے پی اور اس کے حامیوں کی جانب سے بھی ShameOnYouKCR# کا ہیش ٹیاگ بھی ٹرینڈ کیا گیا جس میں ریاستی صدر بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار اور رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے ویڈیوز اور مختلف مخالف حکومت و مخالف وزیراعلیٰ کے سی آر تصاویر، ویڈیوز اور فوٹوز شیئر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے سی آر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

