چوٹ کسی کو بھی لگے نقصان ہمارے ملک کا ہی ہوگا،تشدد مسئلے کا حل نہیں
راہول گاندھی، شیوسینا، عام آدمی پارٹی، ششی تھرور اور دیگر کا ردعمل
نئی دہلی : 26۔جنوری (سحرنیوزڈیسک)
مرکزی حکومت کی جانب سے تین زرعی قوانین کی تدوین پر چند ماہ سے جاری کسانوں کا پرامن احتجاج افسوسناک طورپرآج یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں منعقدہ ٹریکٹر پریڈ تشدد کی شکل اختیار کرگیا۔اس پریڈ کے موقع پر دہلی کےمختلف علاقے تشدد سے متاثر ہوئے یاد رہے کہ آج دہلی کے غازی پور سرحد، آئی ٹی او اور دیگر کئی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کےدرمیان جھڑپ ہوئی اور ایک بے قابو ہجوم لال قلعہ میں داخل ہوگیا اور اپنے ساتھ لائے ہوئے پرچم کولال قلعہ لہرا دیا تھا۔
آج دہلی کےان واقعات پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے اس تشدد کی مذمت کی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہےاور چوٹ کسی کو بھی لگے نقصان ہمارے ملک کا ہی ہوگا۔ راہول گاندھی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے مفاد میں مخالف زرعی قوانین کو واپس لے۔
سابق مرکزی وزیر و کانگریس کے سینئرقائدششی تھرور نے بھی ٹوئٹر پرسخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہیکہ زرعی قوانین کے مسئلہ پروہ کسانوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن تشددناقابل قبول ہے انہوں نے لکھا کہ وہ کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ہیں لیکن وہ تشددکوبرداشت نہیں کرسکتے اور آج جوکچھ بھی ہوا وہ بہت افسوسناک ہےمیں نے احتجاج کے آغاز سے ہی کسانوں کی حمایت کی ہے لیکن میں تشدد اور کو برداشت نہیں کرسکتا اور یوم جمہوریہ کے موقع پرلال قلعہ پر صرف قومی پرچم لہرایا جانا چاہئے کوئی اورجھنڈا نہیں ۔
دہلی میں مبینہ کسانوں کےمشتعل احتجاج پرعام آدمی پارٹی نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہیکہ ہم اس مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور یہ افسوسناک پہلو ہیکہ مرکزی حکومت نے اس حد تک صورتحال کو خراب کرنے کی اجازت دی ہے۔
دوسری جانب کسان رہنماؤں کا کہنا ہیکہ پچھلے دوماہ سے تحریک پر امن طورپر جاری تھی اورجو لوگ آج دہلی کے تشدد میں ملوث رہے ہیں وہ اس تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ غیرسماجی عناصر تھے۔
رکن پارلیمان وشیوسینا قائد پرینکاچترویدی نے بھی آج دہلی میں پیش آئے پرتشدد واقعات کی سخت مذمت کرتےہوئے ٹوئٹ کیا ہیکہ آج کےواقعات کے ذریعہ کوئی فریق نہیں جیتا ہے بلکہ یہ ملک کے لیے افسوسناک دن ہے اور جمہوریت میں کسی بھی طرح کا تشدد قابل برداشت نہیں ہے۔پرینکا چترویدی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ لال قلعے پر ہونے والے مظاہروں کی پریشان کن تصاویر قابوسے باہر ہوگئیں اور کسی بھی حالت میں ترنگے کے تئیں بے عزتی برداشت نہیں کی جاسکتی ہے۔جمہوریت میں کسی بھی طرح کی تشدد کو قبول نہیں کیا جاسکتا قانون سب سے اوپرہے۔ شیوسیناپارٹی کا بھی کہنا ہیکہ ہم اس مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
راشٹریہ جنتادل کے رکن راجیہ سبھا منوج جھا نے بھی آج دہلی میں پیش آئے پرتشدد واقعات پر انتہائی افسوسناک قرار دیا اور ساتھ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دو ماہ سے جاری کسانوں کے پرامن احتجاجی تحریک کو غلط قرار نہیں دے سکتے منوج جھا نے آج کے واقعات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دہلی اور سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے بھی اپیل کی ہےکہ تشدد کو روکا جائے،تشدد کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا۔ یاد رہیکہ یوم جمہوریہ کےموقع پر کسانوں نے دہلی میں ٹریکٹر پریڈ منعقد کی تھی لیکن آج صبح سے ہی دہلی کی مختلف ریاستی سرحدات پرتشدد کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

