بھوپال کے عالمی تبلیغی اجتماع کا مولانا محمدسعد صاحب کی دعائے خاص کیساتھ اختتام
ملک اور بیرون ممالک کے زائد از 15 لاکھ فرزندان توحید کی شرکت، روحانی مناظر
بھوپال: 17۔نومبر
( انصار الحسن صدیقی، بھوپال ۔سحرنیوزڈاٹ کام)

بھوپال میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے 78 ویں عالمی اجتماع جس کا بنگلہ دیش اور پاکستان میں منعقد ہونے والے سالانہ اجتماعات کے ساتھ دنیا کے تین بڑے عالمی تبلیغی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے کا آج بروز پیر، صبح ساڑھے دس بجےخوشگوار اور روحانی فضاء میں اختتام عمل میں آیا۔
اس چار روزہ عالمی اجتماع کا 14 نومبر سے آغاز ہوا تھا جس میں ملیشیاء، انڈونیشیاء کینیا، سعودی عرب کے بشمول زائداز 25 ممالک کے علاوہ مختلف ممالک کے بشمول ملک کی تقریباً تمام ریاستوں سے زائداز 15 لاکھ فرزندان اسلام نے شرکت کی۔ان میں تبلیغی جماعتیں بھی شامل رہیں وہیں انفرادی طورپر بھی لاکھوں فرزندان توحید شریک تھے۔
تبلیغی جماعت کے منتظمین کی جانب سے گذشتہ کئی ماہ سے رات دن انتھک اور بے لوث خدمات انجام دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال جو کہ جھیلوں کے شہر سے بھی مشہور ہے سے 10 کلومیٹر کے فاصلہ پر اینٹ کھیڑی کے مقام پرکھیتوں کی زائداز 500 ایکڑ اراضی پر مشتمل وسیع و عریض اجتماع گاہ میں ملک اور بیرون ممالک سے آنے والے فرزندان توحید کے قیام کےلیے شامیانے نصب کئے گئے تھے وہیں اجتماع گاہ کی چاروں جانب پانچ پانچ کلومیٹر کے فاصلہ تک بھی اجتماع میں شریک افراد مقیم تھے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ بھوپال میں اس اجتماع کا 1947ء میں شکور خان مسجد میں صرف 13 دردمندان ملت کے جوڑ کے ساتھ آغاز ہواتھا پھر 1971ء میں اسے تاج المساجد کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا۔مگر اس اجتماع میں فرزندان توحید کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 2003ء میں اس اجتماع کو اینٹ کھیڑی میں منتقل کر دیا گیا اور یہ اجتماع عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد شناخت کا حامل بن گیا۔
اس عالمی اجتماع میں دہلی کے مرکز حضرت نظام الدین سے تشریف لانے والے اکابرین و علماء کرام نے اپنے خصوصی خطابات میں تلقین کی کہ دعوت و تبلیغ امت میں صالح انقلاب کا بہترین راستہ ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ اجتماع کے شرکاء اپنے شہر، گاؤں اور محلہ کے ہر فرد تک دین پہنچانے کی فکر اوڑھ لیں۔
آج مولانا محمد سعد صاحب کی دعائے خصوصی کے دوران اجتماع گاہ اور اطراف و اکناف کے مقامات آمین کی صداؤں سے گونج اٹھے وہیں دعاء میں شریک لاکھوں فرزندان اسلام کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔قبل ازیں جماعت میں جانے والے لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت کرتے ہوئے مولانا محمد سعد صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دعوت و تبلیغ کا کام نبیوں والا کام ہے یہ کوئی رسم ادائیگی نہیں بلکہ زندگی میں اتر جانے والا کام ہے۔
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں وقت لگانے جارہے ہیں ان کو ہدایت دیتے ہوئے مولانا سعد نے کہا کہ دعوت کے کام میں خود اپنی دعوتوں سےبچیں سب سے پہلے سفر کے دوران آداب اسلامی کا خیال رکھیں اور اپنے کسی بھی عمل سے کسی بھی فرد کو کوئی پریشانی نہ ہو اس کا حتی امکان کوشش کرنا ضروری ہے، سفر چاہے بس کا ہو ٹرین کا ہو یا پیدل ہو دوسرے مسافروں اورراہگیروں کا خیال کرنا بہت ضروری ہے۔اس اجتماع سے اپنے ڈھائی گھنٹے طویل خطاب میں مولانا سعدصاحب نے پوری انسانیت کی بھلائی اور آپس میں بھائی چارےپر بہت زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ چند روزہ زندگی ایک دن اختتام پذیر ہوگی ہمیشہ ہمیشہ کی جو زندگی ہے وہاں پر ہر چیز کا سوال ہوگا اور جواب دینا پڑے گا۔
اس سے قبل نماز فجر کے بعد مولانا زکریا حفیظ نے اپنے خطا ب میں کہا کہ پوری دنیا اللہ کا کنواں ہے اور اللہ اپنے بندے سے ایک ماں کی ممتا سے 70 درجہ زیادہ محبت کرتا ہے اس لیے ایک انسان دوسرے انسان کو حقارت سے نہ دیکھیں اور اللہ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے دعوت کے کام میں لگیں جس سے دونوں جہان میں کامیابی ہے۔
حضرت مولانا زکریا حفیظ نےکہاکہ ایک مسلمان کو اتنا ضرورمعلوم ہونا چاہئےکہ حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نماز جیسے اہم فریضے کو ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان دل میں ٹھان لے تو پھر مشکل سے مشکل کام آسان ہو جاتا ہے، آج انسان کے لیےمشکل سےمشکل کام آسان ہے مگر افسوس کہ نماز جیسا فریضہ جس میں اللہ کی بڑائی کبریائی شامل ہے انسان نماز سے غافل ہے۔
مولانا محمد سعد صاحب نے زائد از ڈھائی گھنٹہ کے خطاب میں جماعت میں جانے والوں کوہدایات اور نصیحت کی اور انہوں نے آپس میں بھائی چارے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی سی چھوٹی چیز یا بڑی سے بڑی چیز صرف اور صرف اللہ سے مانگی جائے کیونکہ دنیا کی ہر چیز اللہ کے حکم کی محتاج ہے۔
تبلیغی جماعت کے اس عالمی اجتماع کے انعقاد کے لیے حکومت کی مشنری نے بھی بھرپورتعاون دیا اور بہترین انتظامات کیے تھے۔
تبلیغی جماعت کے ترجمان و میڈیا انچارج ڈاکٹر عمر حفیظ نے اجتماع میں شرکت کرنے والوں اور اجتماع میں رات دن سخت محنت کرنے والےخدمت گزاروں کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے ضلع انتظامیہ،کمشنر پولیس بھوپال سنجیو سنگھ،ضلع کلکٹر بھوپال کوش لیندرا وکرم سنگھ، نگر نگم کمشنر ایس ڈی ایم ونود سونکیا اور تمام افسران، تمام محکموں کے عہدیداروں اور ملازمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے آغاز سے ہی نقائص سے پاک بہترین انتظامات کے لیے ہمہ وقت تعاون کیا۔

